بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آڑتی (دالال )کا مقررہ کمیشن کے علاوہ خریدار سے کمنشن لینے کا حکم

سوال

میں ایک میڈیکل اسٹور میں کام کرتا ہوں مجھے ۱۰۰ روپے  ملتے ہیں روزانہ ، اب میں ہر پرچی پر اپنے  کمیشن کے طورپر  ۵ روپے رکھ  لیتا ہوں ، پیسے اور دوائی کی طرف اشارہ کر کے بتاتا ہوں کہ اتنے ہوئے توکیا یہ جائز ہے ؟مالک کو اس بات کا پتہ نہیں ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل مذکورہ میڈیکل اسٹور میں میڈیکل اسٹور کے مالک کی طرف سے دوائیوں کے فروخت کرنے پر مامور ہے اور سائل کے لیے اس کام کے عوض روزانہ کی بنیاد پر مثلاً /100 روپے اجرت مقرر ہے تواس صورت میں سائل کا اپنی طے شدہ اجرت کے علاوہ کمیشن نام پر کوئی رقم   گاہک سے وصول کرنا شرعاً ناجائزہے ۔

تبیین الحقائق میں ہے:

"(هي بيع منفعة معلومة بأجر معلوم)....هذا في الشرع وفي اللغة الإجارة....اسم للأجرة وهي ما أعطي من كراء الأجير وقد أجره إذا أعطاه أجرته."

(كتاب الاجارة،ج:5،ص:105،ط:دارالكتاب الاسلامي)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

" (و الثاني) و هو الأجير (الخاص) و يسمى أجير وحد (و هو من يعمل لواحد عملًا مؤقتًا بالتخصيص و يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة و إن لم يعمل كمن استؤجر شهرًا للخدمة أو) شهرًا ... و تحقيقه في الدرر و ليس للخاص أن يعمل لغيره، و لو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل، فتاوى النوازل."

(کتاب الإجارۃ، باب ضمان الأجير، مبحث الأجير الخاص، ج:6،ص:69-70 ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101075
تاریخ10-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں