بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اولاد نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کرنا

سوال

شادی کو پانچ سال ہو گئے، لیکن ابھی تک اولاد نہیں ہوئی اور بیوی، شوہر کی دوسری شادی پر رضامند نہیں۔ بیوی بحث کرتی ہے کہ حضرت  زکریا علیہ السلام نے بھی تو صبر کیا تھا، پھر الله نے اولاد سے نواز دیا تھا، تم صبر کیوں نہیں کرتے؟ اس بارے میں احکامات ہیں۔ براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں۔ 

جواب

سائل  بیوی سے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے  دوسری شادی کرنا چاہتا ہے   تو دوسری شادی کرنے کی اجازت ہے،لیکن دونوں بیویوں کے درمیان رہن سہن، نان و نفقہ اور  رات گزارنے میں عدل و انصاف اور برابری ضروری  ہے، کسی ایک بیوی کے ساتھ ترجیحی سلوک کرنا شرعاً ناجائز ہے اور احادیث میں اس کی بہت سخت وعید آئی ہے، لیکن  دوسری شادی کرنا لازم نہیں ہے، اگر وہ انتظار کرتا ہے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من كانت له امرأتان، فمال إلى أحدهما جاء يوم القيامة وشقه مائل." 

(سنن أبی داؤد،باب فی القسم بین النساء،ج3،ص469،ط؛دار الرسالۃ العالمیۃ)

تفسیر القرطبی میں ہے:

"فالمعنى أنه يحصر نفسه عن الشهوات. ولعل هذا كان شرعه، فأما شرعنا فالنكاح، كما تقدم."

(سورۃ آل عمران،ج4،ص78،ط؛دار الکتب المصریہ)

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین  میں ہے:

"(و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر."

(فصل فی المحرمات،ج3،ص48،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101058
تاریخ10-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں