بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آپ علیہ السلام پر امت کے اعمال کا پیش ہونا

سوال

کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر امتی کااعمال نامہ  پیش کیا جاتا ہے؟

جواب

احادیثِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے، کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر امت کے اعمال ہرصبح شام  پیش کئےجاتے ہیں، اسی طرح تمام انبیاءکرام پر ان کی امتوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، لہذا جوبھی آپ علیہ السلام کے امتی ہے، ان کے اعمال  آپ علیہ السلام پر پیش کئے جاتے ہیں۔

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنورالدین الہیثمی میں ہے:

"باب مایحصل لأمّته ﷺ من استغفاره بعدوفاته ﷺ :

"عن عبداﷲبن مسعود… قال: وقال رسول اﷲ ﷺ :حیاتي خیرلکم تحدثون وتحدث لکم، ووفاتي خیرلکم، تعرض عليّ أعمالکم، فمارأیت من خیرحمدت اﷲعلیه، ومارأیت من شرّ استغفرت ﷲ لکم. رواه البزّار، ورجاله رجال الصحیح."

 ( مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب علامات النبوّة، مایحصل لأمّتها من استغفاره بعد وفاته،ج:9،ص:24،ط: دار الکتاب بیروت)

تفسیرمظہری میں ہے:

"فَكَيْفَ۔۔۔مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ يعنى نبى ذلك الامة يشهد عليهم بما عملوا من خير او شرّ وما أجابوه وما كذبوه وَجِئْنا بِكَ يا محمد عَلى هؤُلاءِ يعنى أمتك امة الدعوة شَهِيداً ۔يشهد النبي صلى الله عليه وسلم مكى جميع الامة من رآه ومن لم يره اخرج ابن المبارك عن سعيد بن المسيّب قال ليس من يوم الّاوتعرض على النبي صلى الله عليه وسلم أمته غدوة وعشية فيعرفهم بسيماهم وأعمالهم فلذلك يشهد عليهم."

(سورۃ النساء،آیت نمبر:42،ج:2،ص:110،ط:مکتبۃ الرشیدیہ پاکستان)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403101007
تاریخ09-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں