بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امّ عنابیہ نام رکھنے کا حکم

سوال

میں اپنی بیٹی کا نام اُمِ عنابیہ رکھنا چاہتا ہوں اور اُمِ ہر نام سے پہلے مجھے پسند ہے جیسے ام ایمن، ام حبیبہ تو میں اپنے بچی کا نام ام عنابیہ رکھنا چاہتا ہوں۔

جواب

"امّ"عربی زبان میں "ماں" کو کہتے ہیں،"عنابیہ" اگر عین کے زبر کے ساتھ نام رکھنا ہو تو اس لفظ کا صحیح تلفظ ’’اَنابیّہ‘‘ہے، یعنی یہ عین کے بجائے ہمزہ سے شروع ہوگا، اور یہ ”اَناب“ سے اسم منسوب موٴنث ہے، جس کے معنی ہیں مشک، یا مشک کے مانند ایک خاص قسم کی خوشبو۔

اگر عین کے ساتھ ہی نام رکھنا ہو تو اس کا درست تلفظ "عِنَّابیَّہ" ہوگا، اس کا معنٰی ہے: چھوٹا خوشبو دان۔ 

دونوں صورتوں میں پورے جملےکا معنی  ہے"مشک  کی یاایک خاص کی قسم کی خوشبو  یاچھوٹاخوشبودان"یہ نام نہیں کنیت ہے،اگرچہ کنیت کو بھی بطور نام رکھنا درست ہے،مگریہ نام صرف "اَنابیّہ "یا"عِنَّابیَّہ" نام رکھیں تو زیادہ اچھا ہے۔

المعجم الوسیط میں ہے:

"الأناب: المسك أو عطر يشبهه."

(باب الهمزة ج : 1ص : 28 ط : دارالدعوة)

معجم تیمورالکبیر فی الالفاظ العامیۃ میں ہے:

"المشنة الصغيرة عندهم يقال لها عِنّابيّة، لعل المراد طبق."

(حرف العين ج : 5 ص : 369ط : دارالكتب ،قاهرة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100912
تاریخ08-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں