بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالغ اولاد کا والدین کے علم میں لائے بغیر اپنی چیز میں تصرف کرنے کا حکم

سوال

کیا بالغ اولاد والدین کے علم میں لائے بغیر  کوئی چیز بیچ کر اس کی رقم اپنے آپ پر خرچ کرسکتی ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بالغ اولاد والدین کے علم میں لائے بغیر اپنی  مملوکہ چیز  بیچ کر اس کی رقم  ا پنے آپ پر خرچ کرسکتی ہے،والدین کی مملوکہ چیز ان کی اجازت کے بغیر فروخت کرنا جائز نہیں۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"‌كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."

[الكتاب العاشر: الشركات، ج:3، ص:201، ط:دار الجيل]

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100908
تاریخ08-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں