بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا آگ بجھانے کے لیے نماز توڑی جاسکتی ہے؟

سوال

نماز میں اگر کوئی شخص آگ بجھانے کی اطلاع دے، تو کیا آگ بجھانےکے لیے نماز توڑی جا سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ہر وہ شخص  جو  نماز کی حالت میں کسی کو سنے کہ وہ ہلاک ہورہا ہے یا اس کو کوئی خطرہ ہے تو اسے بچانے کے لیے نماز توڑنا واجب ہے ۔

صورتِ مسئولہ میں اگر اطلاع دینے والا کسی کی جان بچانے کے لیے اطلاع دے رہا ہو، تو مذکورہ صورت میں نمازی کے لیے نماز توڑنا واجب ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويجب القطع لنحو إنجاء غريق أو حريق. ولو دعاه أحد أبويه في الفرض لا يجيبه إلا أن يستغيث به۔۔۔(قوله ويجب) أي يفترض۔۔۔والحاصل أن المصلي متى سمع أحدا يستغيث وإن لم يقصده بالنداء، أو كان أجنبيا وإن لم يعلم ما حل به أو علم وكان له قدرة على إغاثته وتخليصه وجب عليه إغاثته وقطع الصلاة فرضا كانت أو غيره."

(كتاب الصلاة، باب مايفسد الصلاة ومايكره فيها، باب إدراك الفريضة، ج:2، ص:51، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100858
تاریخ08-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں