بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سركاری ملازم کی ویلفیئر کے فنڈ سے امداد کرنے کاحکم

سوال

کیا کوئی ویلفیئر کسی سرکاری ملازم کو خیرات صدقہ یا فدیہ کی رقم امداد میں آئی رقم سے یا امدادی سامان دے سکتا ہیں ،کیوں کہ تقریباً وفاقی اداروں یا صوبائی اداروں کے ملازمین کی تنخوائیں معقول میڈیکل کے ساتھ اور بچوں کی تعلیم کے ساتھ بونس اور دیگر مراعات ریٹائرمنٹ حق فنڈ اور پنشن کے ساتھ ہوتی ہیں اگر پھر بھی ہم ان غریبوں کا حق جان بوجھ کر سرکاری ملازموں کو دیں تو کیا یہ کبیرہ گناہ ہے یا صغیرہ اور اس کے عذاب یعنی غضب کے بارے میں سختی سے جواب دیں، ویلفیئر تقریباً غیر سرکاری ہوتے ہیں۔

جواب

ویلفیئر کے فنڈ میں چوں کہ زکوٰۃ ،نفلی اور غیر نفلی صدقات  کا فنڈ ہوتاہے، صدقات واجبہ اور زکوٰۃ کا فنڈ تو صرف مستحق زکوٰۃ کو ہی دیاجاسکتاہےالبتہ نفلی صدقات کافنڈ کسی کو بھی دیاجاسکتاہےاس میں کوئی گناہ نہیں ہے، لیکن اس میں اس بات کاخیال رہے کہ جو زیادہ مستحق ہو اس ہی کو دیا جائے ،اگر سرکاری ملازم مستحق ہو اور اس کو ضرورت بھی ہے تو اس کو دینے میں کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر سرکاری ملازم سے زیادہ کوئی اور مستحق ہے جب کہ سرکاری ملازم کی ضرورت کسی نہ کسی طرح پوری ہوجائے گی تو دوسرے شخص کو اس سرکاری ملاز م پر ترجیح دی جائے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"لا يجوز صرف الزكاة إلى الغني لا يجوز صرف جميع الصدقات المفروضة والواجبة إليه...وأما ‌صدقة ‌التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة."

(کتاب الزکوٰۃ،فصل الذی یرجع الی المؤدع الیه،ج:2،ص:47،ط:دارالکتب العلمیه)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100836
تاریخ08-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں