بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے لیے متولی کا انتظار کرنا

سوال

اگر کسی مسجد کا متولی بد اخلاق ہو اور اس کی کچھ رکعتیں چھوٹ جانے پر وہ امام سے بدتمیزی سے پیش آتا ہو، تو ایسے شخص کے انتظار میں جماعت میں تاخیر جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

وقتِ مقررہ پر اگر تمام نمازی آ جائیں تو کسی خاص شخص کا انتظار جائز نہیں، مگر جب وقتِ مستحب میں گنجائش ہو اور قوم پر گراں بھی نہ ہو، یا وہ شخص شریر فتنہ پرداز ہو (اس سے شر کا خطرہ ہو) تو کسی قدر انتظار میں مضائقہ نہیں۔(محمودیہ، باب الجماعۃ، جلد:6، صفحہ: 465، طبع:فاروقیہ)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"‌رئيس ‌المحلة لا ينتظر ما لم يكن شريرا والوقت متسع."

(کتاب الصلاۃ، جلد:1، صفحہ: 400، طبع: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100740
تاریخ06-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں