بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سیمنٹ کی بکنگ کے بعد ریٹ میں کمی کرنا

سوال

سیمنٹ کی بکنگ کرنا آج کے ریٹ پراس میں یہ طے ہو کہ اگرآئندہ ریٹ کم ہوا تو کم کریں گے اگر بڑھ گیا تو بڑھائیں گے نہیں اس طرح کرنا شرعاًجائز ہے؟ً

جواب

واضح رہے کہ بکنگ کے ذریعے خریداری بیع نہیں بلکہ بیع کا وعدہ ہے ؛لہذا صورت ِ مسئولہ میں آج کے ریٹ پر  سیمنٹ کی بکنگ کرنا(   جس میں یہ طے ہو کہ اگر ر یٹ کم ہوا تو کم کریں  گے اور اگر ریٹ بڑھ گیا تو  نہیں بڑھائیں گے  )شرعاً جائز ہے ،اور سیمنٹ کی حوالگی کے وقت اس رقم(جس کا وعدہ کیا گیا تھا) کی پاسداری شرعاً ضروری ہے ورنہ وعدہ کی خلاف ورزی لازم آئے گی جوکہ شرعاً جائز نہیں ۔

قرآن مجید میں ہے :

وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا       (الإسراء: 34)

العنایۃ  شرح الہدایۃ میں ہے :

"ولا ينعقد بلفظين أحدهما لفظ المستقبل والآخر لفظ الماضي.

قال - رحمه الله - (لا ينعقد بلفظين. أحدهما الماضي، والآخر بلفظ المستقبل) وإنما لا ينعقد بذلك لأن النبي - صلى الله عليه وسلم - استعمل فيه لفظ الماضي الذي يدل على تحقق وجوده فكان الانعقاد مقتصرا عليه، ولأن لفظ  المستقبل إن كان من جانب البائع كان عدة لا بيعا، وإن كان من جانب المشتري كان مساومة. وقيل هذا إذا كان اللفظان أو أحدهما مستقبلا بدون نية الإيجاب في الحال".

(کتاب البیوع،ج:6،ص:250،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100698
تاریخ05-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں