بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماربل میں عکس نظر آنے کی صورت میں نماز کاحکم

سوال

مسجدمیں چاروں طرف دیوار پرماربل لگادیاگیا، اب نمازی جب کھڑاہوتاہےتو نمازی کی ماربل سے تصویر ظاہرہورہی ہے اب آیاایسی صورت میں نماز ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں   نماز تو ہو جائے گی ،البتہ نمازیوں کو چاہیے کہ نماز کے دوران  اپنی نظریں نیچیں رکھیں تاکہ خشوع وخضوع حاصل ہو اور مکمل دھیا ن کے ساتھ نماز پڑھی جائے ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"بقي في المكروهات أشياء أخر۔۔۔منها الصلاة بحضرة ما يشغل البال ويخل بالخشوع كزينة ولهو ولعب۔۔۔قوله لأنه يلهي المصلي) أي فيخل بخشوعه من النظر إلى موضع سجوده ونحوه، وقد صرح في البدائع في مستحبات الصلاة أنه ينبغي الخشوع فيها، ويكون منتهى بصره إلى موضع سجوده إلخ وكذا صرح في الأشباه أن الخشوع في الصلاة مستحب. والظاهر من هذا أن الكراهة هنا تنزيهية فافهم."

(کتاب الصلوۃ ، باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیھا،658/654/1،سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100696
تاریخ05-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں