بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے سے انٹرنیت کنیکشن لگانے والا گناہ گار نہیں ہوگا

سوال

مثال کے طور پر اگر میں نے کسی کے گھر میں انٹرنیٹ کنکشن لگایا ،اور وہ شخص انٹرنیٹ پر بے ہودہ چیز یعنی گناہ کا کام کرتا رہا تو کیا  میں اس کے گناہ میں شریک ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال صحیح مقاصد کے لیے بھی ہوتاہے،اور ناجائز مقاصد کے لئے بھی  اور اس پر دونوں طرح کے مواد موجود ہیں،اس لیے انٹرنیٹ کنیکشن لے کر جو غلط استعمال کرے گا   اس کے گناہ کا ذمہ دار وہ خود  ہوگا،   کنکشن فراہم کرنے والے  پراس کا گناہ نہیں ہوگا ۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"[ ‌‌(المادة 90) إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر]

(المادة 90) :إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر هذه القاعدة مأخوذة من الأشباه. ويفهم منها أنه إذا اجتمع المباشر أي عامل الشيء وفاعله بالذات مع المتسبب وهو الفاعل للسبب المفضي لوقوع ذلك الشيء ولم يكن السبب ما يؤدي إلى النتيجة السيئة إذا هو لم يتبع بفعل فاعل آخر، يضاف الحكم الذي يترتب على الفعل إلى الفاعل المباشر دون المتسبب وبعبارة أخصر يقدم المباشر في الضمان عن المتسبب.

تعريف المباشر - هو الذي يحصل التلف من فعله دون أن يتخلل بينه وبين التلف فعل فاعل آخر."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ج1،ص91،ط؛دار الجیل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100669
تاریخ05-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں