بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضو سے گرنے والے پانی کا حکم

سوال

وضو کرتے وقت جو پا نی گر رہا ہوتا ہے کیا وہ ناپاک پانی ہوتا ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ وضوکرتے ہوئے وضو کرنے والے کے استعمال کے بعد گرنے والے پانی  کا حکم یہ ہے کہ وہ استعمال کے بعد پاک تو  ہوتا ہے، یعنی جسم یا کپڑوں پر لگ جائے تو اس سے جسم اور کپڑے وغیرہ ناپاک نہیں ہوتے ،لیکن وہ پانی مطہر   (پاک کرنے والا) نہیں رہتا یعنی اس پانی سے دوبارہ وضو نہیں کیا جا سکتا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"اتفق أصحابنا - رحمهم الله - أن الماء المستعمل ليس بطهور حتى لايجوز التوضؤ به واختلفوا في طهارته قال محمد - رحمه الله -: هو طاهر وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله- وعليه الفتوى. كذا في المحيط."

(كتاب الطهارة،الباب الثالث في المياه،22/1،ط:رشيديه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100651
تاریخ05-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں