بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حضراتِ شیخین (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ/ حضرت عمر رضی اللہ عنہ) کی قبروں کی ترتیب!

سوال

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ انور میں حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہ کے قبور کی ترتیب کیا ہے؟ کیا وہ نبی پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں بائیں مدفون ہیں یا دونوں بائیں طرف یا دونوں دائیں طرف؟

جواب

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قبریں مدینہ منوّرہ میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر کے بائیں جانب ہیں، جس کی ترتیب یہ ہے کہ مدینہ منوّرہ میں حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حجرہ میں قبلہ کی جانب اوّلاً  حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر کے بائیں جانب  کندھے کے برابر میں حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک ہے، اورحضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بائیں جانب کندھے کے برابر میں حضرتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قبرمبارک  ہے۔

الطبقات الكبرى لابن سعد میں ہے:

"عن جابر قال نزل في قبر عمر عثمان بن عفان وسعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل وصهيب بن سنان وعبد الله بن عمر قال أخبرنا محمد بن عمر قال أخبرنا خالد بن أبي بكر قال دفن عمر في بيت النبي صلى الله عليه و سلم وجعل رأس أبي بكر عند كتفي النبي وجعل رأس عمر عند حقوي النبي صلى الله عليه و سلم".

(ذكر استخلاف عمر رضی اللہ عنہ، ج:3، ص:368، ط:دارصادر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100611
تاریخ05-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں