بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین کی طرف سے عمرہ کرانے کا حکم

سوال

ماں باپ کے نام کا عمرہ کر سکتے ہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  عمرہ کر سکتے ہیں یا عمرہ کر کے اس کا ثواب والدین کو پہنچانا بھی جائز ہے ،اس کا ثواب ان تک پہنچے گا  ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"الأصل ‌أن ‌كل ‌من ‌أتى ‌بعبادة ما،له جعل ثوابها لغيره وإن نواها عند الفعل لنفسه لظاهر الأدلة

(قوله بعبادة ما) أي سواء كانت صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة، أو غير ذلك من زيارة قبور الأنبياء - عليهم الصلاة والسلام - والشهداء والأولياء والصالحين، وتكفين الموتى، وجميع أنواع البر كما في الهندية ط وقدمنا في الزكاة عن التتارخانية عن المحيط الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء. اهـ"

(کتاب الحج ،باب الحج عن الغیر،ج:2،ص:595،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100574
تاریخ05-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں