بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کا قرض دینے والے کی طرف راہنمائی پر کمیشن لینا/امانت کی رقم مالک کی اجازت سے کاروبار میں لگانا

سوال

1/ ایک کمپنی یہ خدمات فراہم کرتی ہے کہ وہ قرض لینے والے کو قرض دینے والے کی طرف رہنمائی کرتی ہے تو یہ خدمت فراہم کرنے والی کمپنی چار فیصد طے شدہ کمیشن اپنا اس قرض پر لے تو کیا یہ کمیشن لینا جائز ہے ؟

٢/ کسی نے اگر امانت کے طور پر رقم رکھوائی ہو تو کیا اس کو اجازت سے اپنے کاروبار میں لگایا جاسکتا ہے؟ اور اس کا نفع کس کو ملے گا؟

جواب

1-صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ کمپنی کا قرض لینے والے کو قرض دینے والے کی طرف راہنمائی کر کے اس پر کمیشن لینا شرعا جائز نہیں ؛اس لیے کہ  کمیشن اور اجرت  کسی عمل پر لیا جاتا ہے اور  مذکورہ کمپنی  کی طرف سے باقاعدہ طور پر کو ئی ایسا عمل نہیں پایا جارہا جس کی وجہ سے کمیشن لینا درست ہو  ۔

2-امانت کی رقم کو مالک کی اجازت سے کاروبار  میں لگانا شرعا ً جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی اس کو ملے گا جس نے کاروبار میں لگایا ہے ،البتہ اس پر اتنی رقم مالک کو لو ٹانا  ہوگا  جتنی رقم امانت تھی ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"‌والأجرة ‌إنما ‌تكون ‌في ‌مقابلة ‌العمل".

(باب المہر،ج:3،ص:156،سعید)

در ِ مختار میں ہے :

"لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته".

(کتاب الغصب ،ج:6،ص:200،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100571
تاریخ05-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں