بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر بجلی کے اذان دینے کے بعد دوبارہ اذان دینا

سوال

بجلی نہ ہونے پر اذان پڑھی اور پھر بجلی آنے پر دوبارہ اذان پڑھ دی، برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں کہ ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مسجد کے قریب آبادی تک اذان کی آواز نہ پہنچی ہو تو دوسری مرتبہ مائیک پر اذان دیناجائز ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"لأن تكراره مشروع كما في أذان الجمعة؛ لأنه لإعلام الغائبين فتكريره مفيد لاحتمال عدم سماع البعض بخلاف تكرار الإقامة إذ هو غير مشروع."

(کتاب الصلوۃ ، باب الأذان جلد ۱ ص: ۲۷۸ط: دارالکتاب الإسلامي)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"اگر اس اذان کی خبر سب کو ہوگئی اور بجلی کے بھاگ جانے سے پوری اذان کی آواز نہیں پہنچ سکی تو یہ بھی کافی ہے ، دوسری اذان کی ضرورت نہیں ، تاہم اگر دوسری اذان بھی پڑھ دی جائے تب بھی کوئی گناہ نہیں ۔"

(باب الاذان جلد ۵ ص: ۴۵۰ ط:دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط و اللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100468
تاریخ03-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں