بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مسجد شعائرِ اسلام میں سے ہے؟

سوال

کیا مساجد اسلام کے اعلی شعائر میں سے ہیں؟ بمعہ حوالہ جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

شعائر سے مراد: دین کی علامات ہیں اور مسجد بلا شبہ دین کی علامات میں سے ایک واضح علامت ہے، اس لیے مساجد دینِ اسلام کی شعائر میں سے ہے۔

تفسير طبري" ميں ہے:

"وأما قوله:"منْ شَعائر الله"، فإنه يعني: من معالم الله التي جعلها تعالى ذكره لعباده مَعلمًا ومَشعَرًا يعبدونه عندها، إما بالدعاء، وإما بالذكر، وإما بأداء ما فرض عليهم من العمل عندها."

(البقرة، 158، جلد:3، صفحه: 226، طبع: دار التربية والتراث)

تفسير الراغب الاصفهاني" ميں هے:

"الشعائر: حمع شعيرة أي العلامة، وأصلها إصابة الشعر، كقولك عانه وكبده، يقال للحواس المشاعر، قال الحسن: ‌شعائر ‌الله دينه وفرائضه، وقول عطاء: هي مناسك الحج، فأشار إلى نحو ما قال الحسن."

(المائده، جلد:4، صفحه: 255، طبع: دار الوطن، رياض)

فتاویٰ مفتی محمود میں ہے:

"مسجد شعائر اللہ اور شعائر اسلام میں سے ہے، جو صرف اہلِ اسلام کی عبادت گاہ ہو سکتی ہے ..."

(کتاب المساجد، جلد:1، صفحہ: 601، طبع: جمعیۃ بلیکیشنز)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100326
تاریخ01-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں