بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہر سال کے اختتام پر دلالی کی اجرت لینے کا حکم

سوال

دلالی کی اجرت لینا پہلی مرتبہ تو صحیح ہے،  لیکن ہمارے ہاں ایک جگہ ایسی ہے،  جہاں کے دلال بھاڑے پر دکان یامکان لینے والوں سے ہر سال مکمل ہونے پر دلالی کی اجرت مانگتے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دلالی (بروکری) کی اجرت لینا جائز ہے، کیوں کہ اس میں دلال  کا عمل اور محنت لگتی ہے، لیکن یہ محنت اور عمل صرف پہلی ہی مرتبہ لگتا ہے، لہٰذا  پہلی  مرتبہ تو اجرت لینا درست ہے لیکن ہر سال کے  پورا ہونے پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جو ہر سال کے پورا ہونے پر دلال اجرت وصول کرتے ہیں، یہ ناجائز ہے۔

رد المحتار میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، ‌وما ‌تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام."

(كتاب الاجارة، ج:6، ص:63، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100273
تاریخ01-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں