بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی جانور کو ذاتی تسکین کے لیے قتل کرنا

سوال

نفس کی خاطر یا ذاتی تسکین کے لیے کسی جانور کو قتل کرنا کیسا ہے ؟

جواب

کسی جانور کو کسی مفاد یا غرض کے بغیر نیز دفع ضرر بھی مقصود نہ ہو،بلاوجہ محض ذاتی تسکین ،لہو و لعب کے لیے قتل کرنا جائز نہیں ہے۔اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اگر سوال سے مقصود اس کے علاوہ ہے تو وضاحت کے ساتھ دوبارہ دریافت کرلیں۔

 درمختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے :

’’وکرہ کل تعذیب بلا فائدة مثل قطع الرأس و السلخ قبل أن تبرد أي تسکن عن الإضطراب.‘‘

(کتاب الذبائح،246/6،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

’’وفي التاترخانية قال أبو يوسف إذ طلب الصيد لهوا ولعبا فلا خير فيه وأكرهه وإن طلب منه ما يحتاج إليه من بيع أو إدام حاجة أخرى فلا بأس به ا هـ.‘‘

(کتاب االصید،462/6،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100246
تاریخ01-10-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں