بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ میں بیل ذبح کرنے کا حکم

سوال

عقیقہ کے  لیے بیل ذبح کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس کی عمر کتنی ہونی چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عقیقہ میں بیل ذبح کرنا شرعا درست ہے۔

الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:

"يجزئ في العقيقة الجنس الذي يجزئ في الأضحية، وهو الأنعام من إبل وبقر وغنم، ولا يجزئ غيرها، وهذا متفق عليه بين الحنفية، والشافعية والحنابلة، وهو أرجح القولين عند المالكية."

[ج:30، ص:279،ط:دار السلاسل.]

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144403100028
تاریخ27-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں