بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا لواطت کرنے والے کا حشر قوم لوط کے ساتھ ہوگا؟

سوال

درج ذیل واقعہ کے بارے میں  معلوم کرنا ہے،یہ کسی کتاب میں موجود ہے یامن گھڑت ہے؟

 حضرت عمر  رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک نوکر لڑکے نے اپنے مالک کو قتل کردیا، معاملہ حضرت عمر  رضی اللہ عنہ کے پاس گیا توآپ  نے لڑکے سے قتل کی وجہ پوچھی ،لڑکے نے کہا: اِس نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے، حضرت عمر  رضی اللہ عنہ کے پاس یہ اس قسم کا پہلا مقدمہ تھا ،آپ نے کیس حضرت علی  رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے بات سن کر فرمایا :آپ  لوگ میرے پاس تیسرے دن آنا میں  آپ لوگوں  کا فیصلہ کرو ں گا،تیسرا دن آیا توحضرت علی رضی اللہ عنہ  نے فرمایا :اِس کی قبر کھو دو ،قبر کھودی تو اس مالک کی قبر میں اس کی میت نہ تھی، حضرت علی  رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لڑکا سچا ہے ، کیوں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ اقدس ہے: جو مرد، مرد کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے تو  اللہ تعالی   اس کو تیسرے دن قبر سے اٹھا کر  قوم لوط میں ڈال دیتا ہے۔

جواب

حدیث کی کتابوں میں تلاش کے باوجود ہمیں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملا، لہذا جب تک کسی معتبر سند سے اس کاثبوت نہ مل جائے،اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احتراز کیاجائے۔فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101845
تاریخ25-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں