بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر آپ نے گٹکا کھایا تو آ پ کو طلاق ہے

سوال

بندہ نے اپنی بیوی کوایک طلاق یوں کہہ کر دی ہے کہ اگر آپ نے گٹکا کھایا تو آ پ  کو طلاق ہے،  غرض ابھی تک اس نے گٹکا نہیں کھایا ہے گٹکاسے منع کرنے کی وجہ ڈاکٹر نے اس کی کمزوری بتائی، لیکن اب وہ گٹکے کی عادت کی وجہ سے مجبور ہے اور اس کے مثل کھانا چاہتی ہے،  جیسے پان چھالیہ اب پان یا چھالیہ کھانے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب آپ نے اپنی بیوی کو  کہا کہ ”اگر آپ نے گٹکا کھایا تو آ پ کو طلاق ہے“ تو اس جملے سے تعلیق درست ہوگئی، اگر آپ کی بیوی نے گٹکا کھایا تو اس سے ایک طلاق واقع ہوجائے گی، چھالیہ اور پان دونوں مختلف چیزیں ہیں، لہذا ان کے کھانے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

وفي الفتاوى الهندية :

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقًا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق".

(الفتاویٰ الھندیۃ،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن...الخ، 1/ 420 ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101797
تاریخ24-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں