بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اکلوتی بیٹی کا میراث میں حصہ

سوال

اکیلی بیٹی کو وراثت میں کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

اگر مرحوم کی اولاد میں صرف ایک بیٹی ہے،بیٹا وغیرہ کوئی نہیں تو مرحوم کے ترکہ کا آدھا حصہ اس کی اکلوتی بیٹی کو ملے گا،باقی تر کہ کی مکمل تقسیم  معلوم کرنےکے لیے مرحوم کے تمام ورثاء تفصیل کے ساتھ تحریر کرکے سوال دوبارہ ارسال کریں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين."

(کتاب الفرائض،ج6،ص448،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101779
تاریخ24-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں