بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاک شخص کا جنازے کو کندھا دینے کا حکم

سوال

کیا ناپاک آدمی جنازے کو کندھا دے سکتا ہے؟

جواب

ناپاک آدمی کا جنازے کو کندھا دینا مکروہ  ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويكره ‌أن ‌يغسله ‌جنب أو حائض."

(باب صلاة الجنازة،2/ 202،ط:سعید)

آپ کے مسائل اور ان کاحل میں ہے:

"س… جنازے کو جب کندھا دیا جاتا ہے تو بہت سے لوگ جنازے کو کندھا دیتے ہیں، اگر کوئی شخص ناپاکی کی حالت میں جنازے کو کندھا دے تو کیا ہوگا؟ اگر اس شخص کا دِل پاک ہو اور کپڑے ناپاک ہوں تو کیا وہ اس حالت میں جنازے کو کندھا دے سکتا ہے یا نہیں؟

ج :ناپاک آدمی کا جنازے کو کندھا دینا مکروہ ہے، دِل کے ساتھ جسم اور کپڑوں کو بھی پاک کرنا چاہئے، جس شخص کو اپنے بدن اور کپڑوں کے پاک رکھنے کا اہتمام نہ ہو، وہ دِل کو پاک رکھنے کا کیا خاک اہتمام کرے گا؟"

(آپ کے مسائل اور ان کاحل ،مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ،میت کےاحکام،304/4ط:مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101451
تاریخ18-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں