بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھائی کی گواہی بھائی کے خلاف کس صورت میں قبول ہے؟

سوال

بھائی کی گواہی بھائی کے خلاف کس صورت میں قبول ہے؟

جواب

اگر  کسی میں گواہ بننے کی شرائط موجود ہے  تو اس  کی گواہی بھائی کے خلاف   شرعا معتبر ہے  ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وشهادة الإنسان على أخيه ولابن أخيه مقبولة". 

         (المحيط البرهاني: كتاب الدعوى، الفصل الثامن والعشرون: في دعوى النسب (9/ 373)، ط. دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101405
تاریخ18-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں