بھائی کی گواہی بھائی کے خلاف کس صورت میں قبول ہے؟
سوال
بھائی کی گواہی بھائی کے خلاف کس صورت میں قبول ہے؟
جواب
اگر کسی میں گواہ بننے کی شرائط موجود ہے تو اس کی گواہی بھائی کے خلاف شرعا معتبر ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وشهادة الإنسان على أخيه ولابن أخيه مقبولة".
(المحيط البرهاني: كتاب الدعوى، الفصل الثامن والعشرون: في دعوى النسب (9/ 373)، ط. دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144402101405
تاریخ18-09-2022

