بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اجیر خاص کا مذکورہ اوقات میں کسی اور کے لیے کام کرنے کا حکم

سوال

مسجد میں خادم کو اشراق کے وقت سے ظہر تک کے لیے رکھا گیا ہے،کیا وہ خادم انہی اوقات میں کوئی دوسرا کام کرسکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خادم کومقررہ اوقات میں جب مسجد کے لیے رکھا گیاہے،اب ان اوقات میں کوئی دوسرا کام کرنا اس کے لیے جائز نہیں،اس پر لازم ہے کہ وہ ان اوقات کو مسجد کے لیے فارغ رکھے، اگرمذکورہ اوقات میں کسی اور کے لیے کام کرلیا تو یہ کمائی ناجائز ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والخاص لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة للمستأجر والأجر مقابل بالمنافع ولهذا يبقى الأجر مستحقا وإن نقض العمل ،قال أبو السعود: يعني وإن نقض عمل الأجير رجل، بخلاف ما لو كان النقض منه فإنه يضمن كما سيأتي(قوله حتى يعمل)  لأن الإجارة عقد معاوضة فتقتضي المساواة بينهما، فما لم يسلم المعقود عليه للمستأجر لا يسلم له العوض والمعقود عليه هو العمل أو أثره على ما بينا فلا بد من العمل زيلعي والمراد لا يستحق الأجر مع قطع النظر عن أمور خارجية."

(کتاب الاجارۃ،باب ضمان الاجارۃ،ج:6،ص:64،ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101325
تاریخ18-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں