بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے موقوفہ زمین کو فروخت یا تبدیل کرنا

سوال

مسجد کیلے وقف شدہ زمین واپس لینا یاخریدنا یااپنے تصرف میں لانا یاتبدیل کرنا جائز ہے یانہیں؟

جواب

  سوال میں مذکور امور میں سے کوئی بھی جائز نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما كذا في شرح أبي المكارم للنقاية."

(کتاب الوقف،الباب الأول في تعريفه وركنه وسببه وحكمه وشرائطه،ج2،ص350،ط؛دار الفکر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"مسجد کے نام وقف زمین کو دوسری زمین سے تبدیل کرنا

الجواب حامداً ومصلیاً:

اگر اس زمین سے مسجد کو نفع حاصل ہونے کوئی صورت نہیں تو اس کو تبدیل کرنا اور نفع والی زمین مسجد کے لیے حاصل کرنا درست ہے۔"

(کتاب الوقف،باب فی استبدال الوقف وبیعہ،ج14،ص300،ط؛جامعہ فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101247
تاریخ15-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں