بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین یا عمارت وراثت میں تقسیم کرنے کا حکم

سوال

 ایک شخص مدرسہ قائم کرتاہے،جس میں قرآن وحدیث اور علومِ اسلامیہ پڑھائے جاتے ہیں۔

اب سوال یہ ہےکہ آیا مہتمم صاحب کی اولاد میں مدرسہ کی زمین یاعمارت بطورِ وراثت تقسیم کی جاسکتی ہےیانہیں؟

وضاحت: زمین وقف شدہ تھی۔

جواب

واضح رہےکہ وقف جب درست اور صحیح ہوجائےتوموقوفہ چیز قیامت تک کے لیے واقف کی ملکیت سے  نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، اس کے بعد اس کی خرید وفروخت کرنا، ہبہ کرنا، کسی کو مالک بنانا  اور اس کو وراثت میں تقسیم کرنا جائز نہیں ہوتا،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مذکوہ زمین موقوفہ(وقف شدہ)تھی تو مہتمم صاحب کے اولاد کے لیے شرعاً جائزنہیں کہ وہ مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین یاعمارت وراثت میں تقسیم کردے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"و عندهما: حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد؛ فيلزم، و لايباع و لايوهب و لايورث، كذا في الهداية. و في العيون و اليتيمة: إن الفتوى على قولهما، كذا في شرح أبي المكارم للنقاية."

(كتاب الوقف ج:2،ص:350،ط:رشيدية)

فتح القدیرمیں ہے:

’"و عندهما: حبس العين على حكم ملك الله تعالى؛ فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد؛ فيلزم، و لايباع و لايوهب و لايورث."

( کتاب الوقف ج:6،ص:203 ط: دار الفکر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101198
تاریخ15-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں