زاریہ نام رکھنے کا حکم
سوال
زاریہ نام رکھنا کیسا ہے؟
جواب
"زاریۃ" جس کی ابتداء میں "زاء" ہے، اس کا معنی ہے: عیب لگانے والی، یہ نام رکھنا درست نہیں ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں پر رکھے جائیں، تاکہ خیر وبرکت کا باعث ہو۔
لسان العرب میں ہے:
"زري: زَرَيْتُ عَلَيْهِ وزَرَى عَلَيْهِ، بِالْفَتْحِ، زَرْياً وزِرَايةً ومَزْرِيةً ومَزْراةً وزَرَياناً: عَابَهُ وعاتَبه؛ قَالَ الشَّاعِرُ:
يَا أَيُّها الزَّارِي عَلَى عُمَرٍ، … قَدْ قُلْتَ فِيهِ غَيْرَ مَا تَعْلَمْ."
(لسان العرب، ج:14، ص:356، ط:دار صادر)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

