بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرعی خرابیوں سے پاک نشید سننا جائز ہے

سوال

اگر مجھے نہیں معلوم کہ نشید پڑھنے والا فاسق ہے یا نہیں تو کیا اس کی آواز میں میں نشید یا قرآن سن سکتا ہوں اگر  اس میں جملہ خرابیاں جیسا کہ موسیقی وغیرہ کا عنصر نہ ہو؟

جواب

صورت مسئولہ میں صرف نشید ہو اور دیگر شرعی خرابیاں(موسیقی ،تصاویر ۔امرد اور لڑکیوں کی آواز ) نہ ہوں تو اسے سننا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله أو شعر إلخ) قال في الضياء المعنوي: العشرون أي من آفات اللسان الشعر سئل عنه - صلى الله عليه وسلم - فقال: «كلام حسنه حسن وقبيحه قبيح» ومعناه أن الشعر كالنثر يحمد حين يحمد ويذم حين يذم. ولا بأس باستماع نشيد الأعراب، وهو إنشاد الشعر من غير لحن."

(كتاب الصلاة، ج1، ص660، ط : سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101118
تاریخ14-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں