بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نذر کی رقم کو اپنے مصرف میں استعمال کرنا

سوال

 ایک آدمی  نےبھینس کی منت مانی  کہ اس کو الله کے راستے مین ذبح کرو ں گا اور وہ آدمی غریب ہے،سیلاب کی وجہ سے اب وہ چاہتا ہے کہ اس بھینس کو خیرات کے بجائے اپنے گھر کی تعمیر مین صرف کروں ،کیا یہ اس کے  لیے جائز ہوگا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے جو خط کشیدہ الفاظ کے ذریعے منت مانی ہےتو شرعا اس منت کو پورا کرنا ضروری  ہے،منت کو پورا کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ بغیر بھینس ذبح کرے اسے غرباء اور فقراء میں تقسیم کردےیعنی صدقہ کردے،یا اس کی رقم مستحق زکوۃ غرباء میں تقسیم کردے،اگر سیلاب کی وجہ سے اس کی رقم اپنے گھر کی تعمیر میں لگاناچاہے تو لگاسکتا ہے،لیکن اس شخص پر زندگی میں نذر کا پورا کرنا لازم ہے،یعنی اتنی رقم غریبوں کو صدقہ کرنا لازم ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 81):

"فركن النذر هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله: " لله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلك."

در مختار میں ہے :

"(نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدقه بثمنه."

(کتاب الأیمان،ج:۳،ص:۷۴۱،سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"ولو قال ‌ثلث ‌مالي ‌في ‌سبيل ‌الله فهو للغزو فإن أعطوه حاجا منقطعا جاز وفي النوازل لو صرف إلى سراج المسجد يجوز اهـ."

(بات التحكيم، ج:7، ص:48، ط:دار الكتاب الإسلامي)

احسن الفتاوی میں ہے:

"نذر ذبح میں قیمت کا تصدق جائز ہے 

جواب:اضحیہ کے سوا نذرِ ذبح سے نذرِ تصدق لحم مقصود ہے،ورنہ نفس ذبح کی نذر صحیح نہیں،اس لیے کہ اضحیہ کے سوا حیوان عبادتِ مقصودہ نہیں،جب ذبح مقصود نہیں  بلکہ تصدقِ لحم مقصود ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ ذبح حیوان واجب نہیں،بلکہ اختیار ہے چاہے ذبح کرکے گوشت صدقہ کردےیا بکرا زندہ صدقہ کردے،یا اس کی قیمت صدقہ کردے،یا اس کی قیمت کے برابر کوئی دوسری چیز۔"

(احسن الفتاوی، ج:5،ص:483، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101105
تاریخ14-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں