بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کے ابتداء کس حیض سے ہوگی؟

سوال

عورت کی عدت کے بارے میں سوال ہے کے اگر شوہر اپنی بیوی کو آج ایک طلاق دیتا ہے ،اگر  اس طلاق کے دوسرے دن اس عورت کو حیض آجائے تو کیا یہ حیض بھی عدت کے 3 حیضوں میں شمارہوگا یا اس حیض کے بعد پاکی سے عدت شروع ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق کے دوسرے  دن آنے والا حیض بھی عدت میں شمار ہوگا،کیوں کہ عدت طلاق دینے کےفوراً  بعد ہی  شروع ہوجاتی ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق، و في الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها، كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر فی العدة، 1 / 532/ رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402101010
تاریخ12-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں