بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ، چھ بیٹیاں، ایک بھائی ، ایک بہن کے درمیان ترکہ کی تقسیم

سوال

 میرے نانا ابو کا انتقال ہوا ہے،  پیچھے ان کے 6 بیٹیاں ایک بیوہ عمر سال70 اور ایک بھائی اور ایک بہن ہے تو وراثت کی تقسیم بتا دیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے مرحوم نانا کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ میت کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، اگر ان پر کوئی قرض ہو تو وہ ادا کرنے کے بعد، اگرانہوں نے  کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسےباقی ترکہ کے ایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد، مابقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 144 میں تقسیم کریں، 18 حصے بیوہ کو، 16،16 حصے ہر بیٹی کو، 20 حصے بھائی کو اور 10 حصے بہن کو ملیں گے۔ صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:144/24

بیوہ بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بھائی بہن
3 16 5
18 16 16 16 16 16 16 20 10

یعنی فیصد کے اعتبار  سے %12.5 بیوہ کو، %11.11   ہر بیٹی کو، % 13.88 بھائی کو اور %6.9 بہن کو ملےگا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100986
تاریخ12-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں