بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کو معلق کرنے کی صورت میں بیوی کو تعلیق کا علم ہونا ضروری نہیں ہے

سوال

شوہر نے شرط معلق کے ساتھ بیوی کو طلاق دی اور بیوی کو اس شرط کا علم نہیں اور بیوی نے وہ کام کر لیا، کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ شوہر  جب بیوی کو طلاق کسی شرط کے ساتھ معلق کر کے دے  تو  شرط پائی جانے کی صورت میں بیوی پر طلاق واقع  ہو جائے گی،   بیو ی کو تعلیق کا علم ہونا ضروری نہیں ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا أضافه إلى الشرط ‌وقع ‌عقيب الشرط اتفاقا."

(كتاب الطلاق، الباب الرابع، الفصل الثالث، 420/1، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100926
تاریخ12-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں