بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حدیثِ ضعیف پر عمل کی شرائط

سوال

حدیثِ ضعیف پر عمل کرنے کی کون سے شرائط ہیں، اور  اس کو کس نیت سے پڑھا جاۓ؟

جواب

جمہور اہلِ علم کے نزدیک ضعیف حدیث پر تین شرائط کے بعد عمل ہوسکتا ہے، جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

  • پہلی شرط یہ ہے کہ اس کا ضعف اس درجہ کا نہ ہو کہ موضوع (من گھڑت) کی حد تک پہنچ جائے۔
  • دوسری شرط یہ ہے کہ وہ کسی دوسری صحیح حدیث یا اصولِ دین سے متصادم نہ ہو ، اور اس کی اصل شریعت میں موجود ہو۔
  • تیسری شرط یہ ہے کہ وہ جو عمل اس حدیث سے ہم مستنبط کر رہے ہیں، یعنی کہ جس پر وہ ضعیف حدیث دلالت کر رہی ہے، اس عمل کی  سنِّیَت کا اعتقاد نہ رکھا جائے، بلکہ احتیاط کے پیشِ نظر اس پر عمل کیاجائے۔

الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:

"قال العلماء : يجوز العمل بالحديث الضعيف بشروط ، منها :

أ - أن لا يكون شديد الضعف ، فإذا كان شديد الضعف ككون الراوي كذابا ، أو فاحش الغلط ، فلا يجوز العمل به .

ب - أن لا يتعلق بصفات الله تعالى ولا بأمر من أمور العقيدة ، ولا بحكم من أحكام الشريعة من الحلال والحرام ونحوها .

ج - أن يندرج تحت أصل عام من أصول الشريعة .

د - أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته ، بل يعتقد الاحتياط".

(فضائل، الاحکام المتعلقۃ بالفضائل، حادي عشر - العمل بالحديث الضعيف في فضائل الأعمال، ج:32، ص:160، ط:مکتبہ امیرحمزہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100892
تاریخ08-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں