بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کے دوران ڈپریشن کی وجہ سے گھر سے باہر جانا

سوال

میری والدہ کی عمر 65 سال ہے اور حیض بند ہو چکا ہے 10 سال سے. اب میرے بابا وفات ہوگئے ہیں 2 ماہ پہلے تب سے والدہ صاحبہ گھر پر عدت گزار رہی ہیں. پر گھر رہتے رہتے وہ ڈپریشن کا شکار ہورہی ہیں بیٹےکے ساتھ ایک عزیزہ کی عیادت اور ایک عزیزہ کے والد کی وفات پر دن کے وقت کچھ دیر کے لیے جانا چاہتی ہیں کیا وہ جا سکتی ہیں ؟

جواب

عدت کے  دوران معتدہ عورت کے لیے  شدید ضرورت (مثلاً مکان منہدم ہوجائے یا مال و جان  یا  عزت آبرو کا خطرہ وغیرہ ) کے بغیر گھر سے نکلناجائز نہیں ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ گھر میں عدت کے دوران ڈپریشن کا شکار ہو رہی ہے تو گھر والوں کو چاہیے کہ والدہ کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں،انہیں تنہا نہ چھوڑیں،یا کوئی اور طریقہ جس سے ڈپریشن دور ہو،اختیار کریں۔ ڈپریشن دور کرنے کے لیے والدہ کو گھر سے باہر کسی کی عیادت یا تعزیت کے لیے لے جانا شرعا جائز نہیں ہے،  البتہ ڈاکٹر کے پاس یا ہسپتال میں لے جانے کی اجازت ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین  میں ہے:

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا تخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه."

(كتاب الطلاق، باب العدۃ،فصل فی الحداد،ج3،ص536،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100720
تاریخ05-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں