بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی نماز سے باہر شخص کی بات مان کر اس پر عمل کرے

سوال

ایک شخص کرسی  پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا تھا، وہ سجدے میں گیا تو کسی نے کرسی کھینچ لی،  دوسرے نے بتایا کہ بھائی تمہاری کرسی کھینچ لی ہے، اب اگر اس کی بات وہ نمازی مان کر  کھڑے ہونے کی بجائے اپنی سہولت کے لیے کوئی صورت اختیار کرے تو اس کی نماز ہوگی نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی نمازی نے باہر سے کسی   شخص کی  بات کو سن کر   اس پر عمل کیا  تو اس سے نمازی کی نماز فاسد ہوجائے گی، باہر سے آواز آنے کے بعد وہ خود اس پرغور کرے اور ازخود تسلی کرلے  کہ واقعۃً کرسی ہٹالی گئی ہے اور پھر اپنے غور و فکر کے نتیجے کے مطابق عمل کرے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔

 البنایہ شرح الھدایہ میں ہے:

"قيل للمصلي: ‌تقدم ‌فتقدم أو دخل وأخذ فرجة الصف فتجانب المصلي توسعة له فسدت صلاته؛ لأنه امتثل أمر غير الله في الصلاة، وينبغي للمصلي أن يمكث ساعة ثم يتقدم برأيه."

(كتاب الصلاة،باب مايفسد الصلاة،ج:2،ص:442،ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"لو جذبه آخر فتأخر الأصح لا تفسد صلاته. وفي القنية: قيل لمصل منفرد تقدم بأمره أو دخل رجل فرجة الصف فتقدم المصلي حتى وسع المكان عليه فسدت صلاته، وينبغي أن يمكث ساعة ثم يتقدم برأي نفسه، وعلله في شرح القدوري بأنه امتثال لغير أمر الله تعالى."

(كتاب الصلاة،باب الإمامة،ج:1،ص:571،ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100625
تاریخ04-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں