بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بعض اعذار جن کی وجہ سے جماعت ترک کرسکتے ہیں

سوال

جب بارش میں کپڑے مکمل گیلے ہونے کا اندیشہ ہو یا راستے میں کیچڑ ہو جس سے پاؤں اور پائنچے خراب ہونے کا قوی اندیشہ ہو یا   تیز آندھی ہو  ،تو ایسی صورتِ حال میں فرض نماز گھر میں ادا کرنا بلا کراہت درست ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مردوں پر مسجد   میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرناسنت موکدہ اور  واجب کے قریب ہے، معتبر اور شرعی اعذار کے بغیر جماعت میں شرکت نہ کرنا شرعاجائز نہیں ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  اگر اتنی شدید بارش ہو کہ جس سے کپڑے وغیرہ گیلے ہوجاتےہوں، یا راستہ میں اتنی کیچڑہو کہ جس سے پائنچے اور پاؤں  وغیرہ  خراب ہوجاتےہو ں یا رات میں تیز آندھی چل رہی ہوتو ایسی صورت میں گھر میں نماز پڑھنا بلا کراہت درست ہے، تاہم اگر ہلکی ہوا  ہو یا دن میں تیز ہوا چل رہی ہو، لیکن نقصان کا اندیشہ نہ ہو  تو ایسی صورت  میں  مسجد میں آکر  جماعت  کے ساتھ نماز پڑھنے کو ترجیح دینی چاہئے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"الجماعة سنة مؤكدة. كذا في المتون والخلاصة والمحيط ومحيط السرخسي وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة وفي المفيد وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة وفي البدائع تجب على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج...وتسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل والمفلوج الذي لا يستطيع المشي والشيخ الكبير العاجز والأعمى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - والصحيح أنها تسقط بالمطر والطين والبرد الشديد والظلمة الشديدة. كذا في التبيين وتسقط بالريح في الليلة المظلمة وأما بالنهار فليست الريح عذرا وكذا إذا كان يدافع الأخبثين أو أحدهما أو كان إذا خرج يخاف أن يحبسه غريمه في الدين أو يريد سفرا وأقيمت الصلاة فيخشى أن تفوته القافلة أو كان قيما لمريض أو يخاف ضياع ماله وكذا إذا حضر العشاء وأقيمت صلاته ونفسه تتوق إليه، وكذا إذا حضر الطعام في غير وقت العشاء ونفسه تتوق إليه. كذا في السراج الوهاج."

[كتاب الصلاة، الفصل الأول في الجماعة، ج:1، ص:82،ط: دار الكتب العلمية.]

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"يعذر المرء بترك الجمعة والجماعة، فلا تجبان للأسباب الآتية ...المطر، والوحل (الطين) والبرد الشديد، والحر ظهرا، والريح الشديدة في الليل لا في النهار، والظلمة الشديدة، بدليل ما روى ابن عمر رضي الله عنه، قال: «كنا إذا كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، وكانت ليلة مظلمة أو مطيرة، نادى مناديه: أن صلوا في رحالكم» ، والثلج والجليد كالمطر."

[كتاب الصلاة، الفصل العاشر: أنواع الصلاة، ج:2، ص:1189، ط:دار الفكر]

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100622
تاریخ04-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں