بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں سورہ فاتحہ ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے

سوال

نماز میں سورۂ فاتحہ کی آیات الگ الگ پڑھی جائیں یا ملا کر پڑھنا چاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دوران نماز سورۂ فاتحہ اور سورت کو ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر ایک ایک آیت پڑھنی چاہیے تاکہ نماز میں خشوع وخضوع پیدا ہو، تاہم اگر کوئی ہر آیت پر وقف کے بجائے وصل کرتا ہے اور  آیتوں کو ملا لیتا ہے تو بھی درست ہے نماز ہو جائے گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"روى الْحسن عن أبي حنيفةَ - رحمه الله تعالى - أنّه يقرأ في كل ركعة عشر آيات ونحوها، وهو الصحيح، كذا في التبيين ويكره الإِسراع في القراءة وفي أداء الأركان، كذا في السراجية. وكلّما رتل فهو حسن، كذا في فتاوى قاضي خان. والأفضل في زماننا أن يقرأ بما لايؤدي إلى تنفير القوم عن الجماعة لكسلهم؛ لأن تكثير الجمع أفضل من تطويل القراءة، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ١/ ١١٧، ١١٨، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100577
تاریخ04-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں