بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے وقت لڑکی کا موجود ہونا ضروری ہے یا نہیں؟

سوال

کیا نکاح کے وقت لڑکی کا وہاں موجود ہونا ضروری ہے؟  جب کہ لڑکی اپنی رضامندی دے چکی ہو،  اور ولی کو اجازت دے چکی ہو کہ وہ اس کی مرضی کے مطابق  اس کی جگہ وہاں موجود رہے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر لڑکی اپنے ولی کو نکاح کروانے کا اختیار سپرد کر چکی ہو  کہ وہ اس کی طرف سے نکاح میں  ایجاب یا قبول کر لے تو نکاح کی مجلس میں لڑکی کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے۔

کتاب الاصل میں ہے:

"قلت: أرأيت امرأة ‌وكلت ‌رجلا أن يزوجها، ووكل رجل هذا الوكيل أن يزوجه امرأة، للوكيل أن يزوج هذه المرأة من هذا الرجل الذي وكله، ويكون الوكيل هو المتكلم وحده لهما جميعا؟ قال: نعم؛ ذلك جائز عندنا."

(كتاب الحيل، ‌‌باب الحيلة فيى الوكالة والثقة في ذلك، ج:9، ص:420، ط:دار ابن حزم)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100524
تاریخ04-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں