بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی شرمگاہ منہ میں لینے کا حکم

سوال

مرد کا اپنی شرمگاہ عورت کے منہ میں دینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

مرد  کے لیے اپنے عضو مخصوص کو عورت کے منہ میں دینا اور عورت کا اپنے منہ میں لینا شرعاً مکروہ اور منع   ہے، جس پاکیزہ زبان سے اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے اسے ایسے کاموں میں استعمال کرنا مہذب انسان کا کام نہیں  بلکہ یہ جانوروں کا فعل ہے، اس سے بچنا چاہئے،  اور  شرم گاہ سے نکلنے والی مذی یا ودی کو نگلنا  ناپاک ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔

تفسير مفاتيح الغيب ( التفسير الكبير )  میں   ہے:

"ويحرم عليهم الخبائث [الأعراف: 157] وذلك يقتضي تحريم كل الخبائث والنجاسات خبائث فوجب القول بتحريمها. الثالث: أن الأمة مجمعة على حرمة تناول النجاسات فهب أنا التزمنا تخصيص هذه السورة بدلالة النقل المتواتر من دين محمد في باب النجاسات فوجب أن يبقى ما سواها على وفق الأصل تمسكا بعموم كتاب الله في الآية المكية والآية المدنية فهذا أصل مقرر كامل في باب ما يحل وما يحرم من المطعومات."

(سورة الأنعام، رقم الآیات : 145 الى 147، ج:13، ص:169، ط:داراحیاء التراث العربی)

المحيط البرهاني في الفقه النعماني میں ہے:

"إذا أدخل الرجل ذكره فم أمرأته فقد قيل: يكره؛ لأنه موضع قراءة القرآن، فلايليق به إدخال الذكر فيه، و قد قيل بخلافه."

(کتاب الاستحسان و الکراهیة، الفصل الثانی و الثلاثون فی المتفرقات، ج:5، ص:408، ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100471
تاریخ03-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں