بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا اذان کے لیے نیت ضروری ہے؟

سوال

جیسے پانچ وقت کے نمازوں کے لیے نیت ضروری ہے تو اسی طرح اذان کے لیے بھی نیت ضروری ہے یا نہیں ؟بغیر نیت کے ہوجائےگی۔ 

جواب

نیت کے شرعی معنی یہ ہیں کہ کوئی بھی نیک کام   کرتے ہوئے اللہ تعالی کی عبادت اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ارادہ کرنا، لہذا اذان دیتے ہوئے اسے عبادت سمجھ کر اور اللہ تعالی کی رضا کے حصول کی نیت رکھی جائے، شریعت میں نیت کے کوئی الفاظ مخصوص نہیں ہیں اور نہ ہی زبان سے نیت دہرانا لازم ہے اور اگر زبان سے بھی نہ دہرائی اور اذان دے دی تو بھی اذان ہو جائے گی چوں کہ نیت اذان کے لیے شرط نہیں ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے: 

"(قوله: بالنية) بالتشديد وقد تخفف قهستاني. وهي لغة عزم القلب على الشيء. واصطلاحا كما في التلويح قصد الطاعة والتقرب إلى الله تعالى في إيجاد الفعل."

(کتاب الطهارۃ،  مطلب الفرق بين النية والقصد والعزم، ج: 1، 105: ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100426
تاریخ03-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں