بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فون پر تین طلاقیں واقع کرنا

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کی خالہ کو فون پر اپنی بیوی کے بارے میں چند الفاظ کہے اور یہ بھی کہا کہ پیغام پہنچا دینا ۔

(1)آج بھی طلاق ہے کل بھی طلاق ہے۔

(2)میں نے تجھے آج بھی طلاق دی ہے کل بھی دی ہے اور دوں گا۔

(3)نہ میں نے اس کو بسایا ہے نہ یہ بسنے کے لائق ہے نہ بسنا چاہتی ہے۔

(4)میں ان خنزیر لوگوں سے جان چھڑانا چاہتا ہوں۔

(5)میں نے اس کو (بیوی کو)  کہا تھا ان شاء اللہ تو ناراض ہوکر جارہی ہے،  میں تجھے اپنی زندگی میں قدم نہیں رکھنے دوں گا ، اس (اپنے)دروازے پر آج بھی طلاق ہے،  کل بھی طلاق ہے، قیامت تک ہوگی، طلاق رہے گی طلاق۔

کیا طلاق واقع ہوگئی ہے؟ شادی کو ایک سال ہواتھا، رخصتی ہوگئی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ جملے بولنے والے کی بیوی پر تین طلاقیں  واقع ہوچکی ہیں،  دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے، اب نہ دورانِ عدت رجوع جائز ہے، اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی، عورت عدت(جو حمل نہ ہونے کی صورت میں تین ماہواریاں ہے) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن کان الطلاق ثلاثًا في الحرة و ثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا و یدخل بها ثم یطلقها أو یموت عنها."

(کتاب الطلاق، فصل فیما تحل بہ المطلقہ، ج:1، ص:473، ط:رشیدیہ )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100344
تاریخ01-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں