بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جتنا عرصہ شریک کاروبار میں شریک رہا، اتنےعرصہ ہی کہ نفع اور نقصان کا ضامن ہوگا

سوال

ایک شخص نے کپڑے کی کمپنی کی بنیاد جنوری میں رکھی، پھر دسمبر میں اس کمپنی کا نفع تقسیم نہیں کیا،  بلکہ اگلے سال جون میں نفع تقسیم کیا،  یعنی اٹھارہ مہینے بعد۔

اب اس کمپنی میں انویسٹر آتے رہے ان اٹھارہ مہینوں کے درمیان، اب سوال یہ ہے کہ ایک انویسٹر آخری کے بارہ مہینے میں شامل ہوا،  تو کیا ان بارہ مہینوں سے پہلے کے نفع و نقصان میں شریک ہوگا یا نہیں؟

جواب

  صورتِ مسئولہ میں  جو انویسٹر  آخر کے  بارہ مہینے کاروبار میں شریک رہا، چوں کہ وہ اس سے پہلے کے وقت میں کاروبار میں شریک نہیں تھا، اس وجہ سے وہ اس سے پہلے کے نفع اور نقصان میں شریک نہیں ہوگا۔

الدر المختار ميں ہے:

"(هي) بكسر فسكون في المعروف لغة الخلط، سمي بها العقد لأنها سببه. وشرعا (عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح) جوهرة."

(کتاب الشرکۃ، ج:4، ص:299، ط:سعید)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"وقال الحنفية: الشركة: عبارة عن عقد بين المتشاركين في رأس المال والربح."

(القسم الثالث، الفصل الخامس، ج:5، ص:3875، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144402100339
تاریخ01-09-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں