بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

المیر نام کا معنی

سوال

المیر نام کا معنی ؟

جواب

’’اَلْمَیْر‘‘ (مَیْر) عربی زبان میں خوراک اور راشن کو کہا جاتا ہے. (مصباح اللغات)

اسی مادے  (مَارَ یَمِیْرُ مَیْرًا، باب ضرب) سے اسمِ فاعل ’’مَائِرْ‘‘  کا معنیٰ ہے: اہلِ خانہ کے کھانے کا انتظام کرنے والا۔ اور مؤنث ’’مَائِرَهْ‘‘ہے، بمعنیٰ خوراک کا انتظام کرنے والی۔ اسمِ فاعل کی صورت میں یہ نام رکھا جاسکتاہے۔ اور اگر یہ باب نصر ینصر  (مَارَ یَمُوْر مَوْرًا) سے ہو تو اس کا معنیٰ ہوگا: گھومنے والا، چکرانے والا۔ اس پہلو کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ نام مناسب نہیں ہوگا۔

اور اردو میں یہ ”میر“ استعمال ہے  جو کہ امیر کا مخفف ہے،  جس کے معنی سردار، افسر، شاہ زادہ ، راہ نما وغیرہ کے معنی میں آتا ہے۔ (اظہر اللغات)

لیکن اردو لغت میں الف لام کے ساتھ یہ اس معنی میں مستعمل نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ اس کے بجائے انبیاءِ کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم یا تابعین، صلحاء یا دیگر اچھے بامعنی ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیا جائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100294
تاریخ31-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں