بنک میں اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے یا نہیں؟
سوال
سودی بنک میں اکاونٹ کھلوانا جائز ہے یا ناجائز؟ جب کہ آپ کا مقصد صرف اور صرف اپنی رقم کی حفاظت ہو اور اس پر سود لینے کا ارادہ نہ ہو ۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں مال کی حفاظت کی اگر کوئی معتمد صورت نہ ہو تو بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھول کر اس میں حفاظت کی غرض سے پیسے رکھنے کی گنجائش ہے، البتہ اگر کوئی متبادل صورت ہو تو پھر بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی رقم رکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے، تاکہ بینک کے سودی نظام کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ ہو۔
الأشباہ ولنظائر میں ہے:
"الأولى: الضرورات تبيح المحظورات".
(الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص:73، ط: دار الكتب العلمية)
وفيه أيضاً:
"المشقة تجلب التيسيروالأصل فيها قوله تعالى: {يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر} وقوله تعالى: {وما جعل عليكم في الدين من حرج}".
(الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص:64، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

