بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بنک میں اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے یا نہیں؟

سوال

سودی بنک میں اکاونٹ کھلوانا جائز ہے یا ناجائز؟ جب کہ آپ کا مقصد صرف اور صرف اپنی رقم کی حفاظت ہو اور اس پر سود لینے کا ارادہ نہ ہو ۔

جواب

 صورتِ مسئولہ میں مال کی حفاظت کی اگر کوئی معتمد صورت نہ ہو تو بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھول کر اس میں حفاظت کی غرض سے پیسے  رکھنے کی گنجائش ہے، البتہ اگر کوئی متبادل صورت ہو تو پھر بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی رقم رکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے، تاکہ بینک کے سودی نظام کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ ہو۔

الأشباہ ولنظائر میں ہے:

"الأولى: الضرورات تبيح المحظورات".

(الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص:73، ط: دار الكتب العلمية)

وفيه أيضاً:

"المشقة ‌تجلب التيسيروالأصل فيها قوله تعالى: {يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر} وقوله تعالى: {وما جعل عليكم في الدين من حرج}".

(الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص:64، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100219
تاریخ30-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں