بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہادیہ نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

 میری بیٹی کا نام ہادیہ ہے ،کیا یہ نام رکھناچاہیے؟

جواب

ہادیہ یہ ’’الهادي‘‘ کا مؤنث ہے، اس کے مختلف معنی ہیں: (۱)  اللہ تعالیٰ کے آسماءِ حسنیٰ میں سے ایک نام ہادی برحق، ( 2 ) راہبر راہنما،( 3 ) گردن  ( 4 ) لاٹھی۔
اسی طرح "ہادیہ" کے اس کے علاوہ بھی اور معنی ہیں: ( 1 ) ہر آگے رہنے والی چیز ( 2 ) لاٹھی ( ۳) پانی میں ابھری ہوئی چٹان۔

ان سب معانی کا حاصل یہ ہے کہ ہادیہ کے معنی میں راہ بری کا معنی موجود ہے، جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے خاص اصطلاحی ہدایت کا معنی مراد ہوگا، اور جب مخلوق کی طرف ہو تو راہ بری اور راستہ دکھانے کے معنی میں استعمال ہوگا، اس لیے لڑکی کا نام ’’ہادیہ‘‘ رکھنا جائز ہے۔

لسان العرب میں ہے:

"هدي: من أسماء الله تعالى سبحانه: الهادي۔۔۔وهداه للطريق وإلى الطريق هداية وهداه يهديه هداية إذا دله على الطريق۔۔۔والهادية والهادي: العنق لأنها تتقدم على البدن ولأنها تهدي الجسد۔۔۔وقد يكون إنما سمى العصا هاديا لأنه يمسكها فهي تهديه تتقدمه."

(و-ی،فصل فی الھاء،ج:15،ص:358،ط:دار صادر)

المعجم الوسیط میں ہے:

"(الهادية) الْمُتَقَدّمَة من كل شَيْء والعصا والصخرة الناتئة فِي المَاء."

(باب الهاء،ج:2،ص:978،ط:دار الدعوة)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144402100133
تاریخ30-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں