بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ تعالی سے بزرگانِ دین کے فیوض کی دعا مانگنا

سوال

کیا بزرگانِ  دین کی قبروں سے فیض و برکتیں مانگنا جائز ہے؟ ہم اگر بزرگان دین کی قبر پر جائیں ،کیا وہاں پر یہ دعا مانگنا جائز ہے ،" یا اللہ ہمیں ان بزرگوں  کا فیض و برکتیں عطا کریں "؟ براہ کرم راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اللہ تعالی سے یہ دعامانگناشرعاً جائز ہے، کہ یا اللہ ہمیں بزرگوں کے فیوض اور برکات عطاء فرما ، بل کہ باعثِ خیروبرکت ہے، تاہم قبرستان جانے میں اور وہاں دعامانگنے میں بدعات سے بچنےکا لحاظ رکھنا انتہائی  ضروری ہے۔

المہندعلی المفندمیں ہے:

 "اب رہا مشائخ کی روحانیت سے استفادہ اور ان کے سینوں اور قبروں سے باطنی فیوض پہنچناسو بیشک صحیح ہے، مگر اس طریق سے جو اس کے اہل اور خواص کو معلوم ہے،نہ اس طرز سے جو عوام میں رائج ہے۔۔۔ملخصاً"

(الجواب الحادی عشر،ص:39/ 40،ط:نفیس منزل)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101966
تاریخ27-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں