بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یہ صبر کرے دیتا ہوں اس کو طلاق کہنے سے طلاق کا حکم

سوال

اگر میاں بیوی میں لڑائی ہو جائے اور سسر کہے کہ اس کو طلاق دے دو اور شوہر کہے کہ "یہ صبر کرے ،دیتا ہوں اس کو طلاق " یعنی بعد میں طلاق دینے کی بات کرے تو کیا ایسا کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  شوہر کا یہ جملہ: "یہ صبر کرےدیتاہوں اس کو طلاق"اگر واقعۃً  آئندہ مستقبل میں طلاق دینے کے ارادہ سے کہے تو ایسی صورت میں شوہر کے یہ الفاظ    طلاق کا وعدہ  یا دھمکی ہے، اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

"العقود الدرّیة في تنقیح الفتاوی الحامدیة" میں ہے:

"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."

(كتاب الطلاق، 38/1، ط : دار المعرفة)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101959
تاریخ27-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں