بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر حکومت کے بنائے ہوئے اصولوں پر چلنا ممکن نہ ہو تا کیا جاب چھوڑ دینی چاہیے

سوال

اجیر خاص اگر اپنی ڈیوٹی مکمل دے رہا ہے تو کیا اس کی تنخواہ حلال ہو گی۔ کیوں کہ وہ اپنا فرض پورا کر رہا ہے، حکومت کے بنائے ہوئے اصولوں پہ چلنا اگر ناممکن ہو تو کیا جاب چھوڑ دینی چاہیے؟

جواب

 واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کے  ملازمین کی حیثیت اجیرِ خاص کی ہوتی ہے،  کیوں کہ وہ وقت کے پابند ہوتے ہیں، اور  اجیرِ  خاص  ملازمت کے مقررہ وقت پر حاضر رہنے سے اجرت (تنخواہ)  کا مستحق ہوتا ہے،لہذاصورت مسؤلہ میں اجیر خاص اگر اپنی ڈیوٹی مکمل دے رہا ہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے۔ 

نیزحکومت کے بنائے ہوئے اصولوں کے متعلق جو سوال کیا گیا ہے وہ انتہائی مبہم اور وضاحت طلب  ہے اگر اس کی مکمل وضاحت  کر دی جائے تو اس کا جواب دیا جاسکتا ہے ۔

مجلۃ   الاحکام العدلیۃ  میں ہے:

" الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة".

(مجلۃ   الاحکام العدلیۃ ،(المادة 425) ص:82 ط:نورمحمد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144401101913
تاریخ26-08-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں